1. فہرست مضامین
  2. نیوی گیشن
  3. مزید مضامین
  4. میٹا نیوی گیشن
  5. تلاش
  6. تیس زبانوں میں سے انتخاب کریں


 

معاشرہ | 15.03.2010

جنوبی ایشیا کے حالات پر جرمن پریس کا جائزہ

 

جرمن زبان کے اخبارات نے گزشتہ ہفتے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور بھارتی پارلیمان میں خواتین کی نشستوں سے متعلق قانون پر کیا لکھا؟ جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات پر ایک ہفتہ وار جائزہ۔

 

اخبار Tageszeitung لاہور میں خفيہ پوليس کی عمارت پر بم حملے کے بارے ميں لکھتا ہے:

فوجی لحاظ سے بڑی حد تک يہ غير اہم حملہ ايک پيغام سمجھا جاسکتا ہے۔ عسکريت پسند اس حملے کے ذريعے يہ دکھانا چاہتے ہيں کہ وہ پاکستان کے سلامتی اور تحفظ کے انتظامات پر اب بھی کاری ضرب لگانے کی صلاحيت رکھتے ہيں۔ مگر درحقيقت پاکستانی طالبان دفاعی پوزيشن ميں آچکے ہيں۔ پچھلے سال اکتوبر ميں جنوبی پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ہفتے پے درپے دہشت گردانہ حملے ہوئےBildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ہفتے پے درپے دہشت گردانہ حملے ہوئےوزيرستان ميں اُن کے خلاف فوج کے حملے کے آغاز کے بعد سے طالبان جنگجو راہ فرار اختيار کئے ہوئے ہيں۔ تحريک طالبان پاکستان کو اب کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس سال کے آغاز ميں امريکی خفيہ سروس کے بغير عملے کے جاسوس ڈرون طيارے نے  پاکستانی طالبان کے قائد کو ہلاک کرديا۔ پچھلے چند ماہ کے اندر مارے جانے والے يہ طالبان کے دوسرے سربراہ تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے بعد سے ، پاکستانی طالبان کی قيا دت کے لئے کئی مخالف گروپوں ميں جھڑپيں ہو چکی ہيں۔

اخبار Neue Zürcher Zeitung رقم طراز ہے:

پاکستان نے گزشتہ ہفتوں کے دوران طالبان کے قائدين کے گرد شکنجہ تنگ کرديا ہے۔ اُن کے کئی چوٹی کے رہنماؤں کو کراچی ميں گرفتار کرليا گيا ہے۔ تاہم گرفتاريوں کی اس لہر نے جوابات فراہم کرنے سے زيادہ کئی نئے سوالات پيدا کئے ہيں۔ مغربی ملکوں ميں پايا جانے والا يہ خيال متنازعہ ہے کہ پاکستان  اب طالبان کے خلاف جنگ ميں زيادہ سنجيدہ ہوگيا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ بہت سے ايسے طالبان رہنماؤں کو حراست ميں ليا گيا ہے جنہيں طالبان کے،اعتدال پسند اور مذاکرات کے حامی بازو ميں شامل سمجھا جاتا ہے۔ ان ہی ميں ملا عبدالغنی برادر بھی ہيں جن کے بارے ميں بتايا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے قائد ملا عمر کے نمائندہء اعلی کی حيثيت سے ، قيام امن کے لئے افغان حکومت سےخفيہ مذاکرات کررہے تھے۔ قياس کيا جاتا ہے کہ پاکستان نے ملا برادر کو اس لئے گرفتار کيا ہے تاکہ پاکستان،اپنے ہمسايہ افغانستان کے مستقبل کے سلسلے ميں بات چيت ميں فيصلہ کن فريق کے طور پر حصہ لے سکے۔بھارتی پارلیمان میں خواتین سے متعلق ایک قانون منظور کیا گیاBildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  بھارتی پارلیمان میں خواتین سے متعلق ایک قانون منظور کیا گیا

اب ايک نظر بھارت پر جہاں پارليمنٹ کے ايوان بالا نے عالمی يوم خواتين کے موقع پر ملکی آئين ميں ترميم کی منظوری دی ہے جس کے مطابق ايوان زيريں اور صوبائی اسمبليوں ميں 33 فيصد نشستيں خواتين کے لئے مخصوص ہوں گی۔ اخبار Neues Deutschland  لکھتا ہے کہ يہ ترميم بھارت ميں خواتين کو يکساں حقوق دينے کی راہ ميں ايک اہم قدم ہے۔ اخبار مزيد لکھتا ہے کہ اس طرح بھارت ميں سياسی قواعد ميں ايک ايسی تبديلی آئے گی جو اس سے پہلے کبھی نہيں آئی تھی۔ اس کے حاميوں کا کہنا ہے کہ ترميم ميں بہتری کی راہ ہميشہ کھلی رہے گی۔ اس طرح خواتين کی سياسی فيصلوں ميں شموليت، سماجی اور اقتصادی زندگی ميں اُن کی شرکت ،اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے اُن کی صلاحيت اور اُن کے مساوی حقوق کی صورتحال بہت بہتر ہوجائے گی۔

 

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : افسر اعوان

 
 

فیڈ بیک »بھیجیں »پرنٹ کریں »

Weitere Schlagzeilen

 
آرٹیکل بُک مارک کریں


 
عافیہ صدیقی 'ذہنی بیمار' ہیں
ڈاکٹر عافیہ صدیقی
آٹھ نوزائیدہ بچوں کی لاشیں برآمد
فرانس کے ایک گاؤں سے آٹھ بچوں کی لاشیں برآمد
لَو پریڈ میں بھگدڑ

خوشی غم میں تبدیل

ڈوئچے ویلے ٹویٹر پر
آن لائن نیوز لیٹر
Themenbild Newsletter
پوڈکاسٹنگ
آڈیو آن ڈیمانڈ
Audio, video, Multiklick, Banner

ڈوئچے ویلے کی نئی ویب سائٹ

ڈوئچے ویلے فیس بک پر