1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

آپ کی بات آپ کے ساتھ

ڈوئچے ویلے، ایک تعارف

ڈوئچے ویلے جرمنی کا بیرونی دنیا کے لئے وہ نشریاتی ادارہ ہے جو دن بھر کئی زبانوں میں اپنی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات پیش کرتا ہے۔ ڈوئچے ویلے کے سامعین اورناظرین اسے وائس آف جرمنی کے نام سے بھی پکارتے رہے ہیں۔

شعبہ اردو کی ٹیم کے کچھ اراکین

اس ادارے نے اپنی نشریات کا باقاعدہ آغاز 3 مئی1953ء کے روز کیا تھا۔DW ریڈیو کے ذریعے جرمن، انگریزی، اردو، ہندی اور بنگلہ سمیت جن کل 30 زبانوں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے جرمن، انگریزی اور عربی سمیت متعدد زبانوں میں جو روزانہ نشریات پیش کی جاتی ہیں، ان میں جرمنی کی سیاسی، ثقافتی اور معاشی زندگی کی جامع عکاسی اور ترجمانی کے ساتھ ساتھ اہم موضوعات پر جرمن نقطہ نظر بھی سامنے آتا ہے۔

ڈویچے ویلے کی اردو سروس گذشتہ 45 برس سے جنوبی ایشیائی، خاص کر پاکستانی سامعین میں بے حد مقبول ہے اور اس کی نشریات انتہائی قابل اعتماد اور غیر جانبدار تصور کی جاتی ہیں۔ ڈوئچے ویلے کی اردو نشریات کا آغاز چودہ اگست 1964 کے روز ہوا تھا جس کے ایک ہی دن بعد ہندی سروس بھی شروع کر دی گئی تھی۔ یوں اس سال چودہ اگست یعنی پاکستان کے قیام کے 62 برس پورے ہونے کے موقع پر وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کے بھی ٹھیک 45 برس پورے ہو گئے ہیں۔

شروع میں ڈوئچے ویلے کے روزانہ اردو پروگراموں کادورانیہ صرف 15 منٹ ہوتا تھا ۔اس کے پہلے صدر شعبہ ظہیر الدین بٹ نامی ایک پاکستانی صحافی تھے اور تب اس مجلس کا مستقل عملہ صرف دو ارکان پر مشتمل ہوا کرتا تھا، جنہیں چند فری لانس صحافیوں کی مدد بھی حاصل رہتی تھی۔

پھر بعد کے سالوں میں اردو مجلس کا دورانیہ 15 منٹ سے بڑھا کر 30 اور پھر 50 منٹ بھی کر دیا گیا تھا۔ مزید چند سال بعد جب ڈوئچے ویلے کے اوقات نشریات میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں تو 24 گھنٹوں میں صرف ایک مرتبہ پیش کئے جانے والے اردو مجلس کے پروگراموں کا دورانیہ بھی تھوڑا سا کم کرکے 45 منٹ کردیا گیا تھا۔ ان دنوں ڈوئچے ویلے کا شعبہ اردو روزانہ 30 منٹ دورانیے کے تین پروگرام نشر کرتا ہے۔

ڈوئچے ویلے کےایک اسٹوڈیو کا اندرونی منظر

آج ڈوئچے ویلے کے غیر ملکی زبانوں میں پیش کئے جانے والے ریڈیو پروگراموں میں اردو نشریات کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اردو مجلس کو ہر دور میں کئی معروف اور تجربہ کار صحافیوں کی پیشہ وارانہ خدمات سے استفادہ حاصل کرتے رہنے کا موقع بھی ملتا رہا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

ڈوئچے ویلے کی اردو سروس کے لئے DW اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن یعنی ریڈیو پاکستان کے درمیان تعاون بھی عشروں پرانا ہے۔ دیگر غیرملکی زبانوں کی طرح ڈوئچے ویلے کی اردو نشریات بھی ایک طویل عرصے تک کولون سے پیش کی جاتی رہیں، جس کی وجہ سے عام سامعین کے لئے کولون شہر کا نام تقریباً ڈوئچے ویلے کے نام کا حصہ بن گیا تھا۔ ڈوئچے ویلے کولون 2003ء میں اس وقت ڈوئچے ویلے بون میں تبدیل ہو گیا، جب قریب چھ برس قبل کولون سے DW کے تمام انتظامی اور نشریاتی شعبے بون میں سابقہ جرمن پارلیمان کی عمارت کے قریب ہی دریائے رائین کے کنارے تعمیر کی گئی ایک نئی مرکزی عمارت میں منتقل ہو گئے۔ تب سے ڈوئچے ویلے کے بیرونی دنیا کے لئے تمام ریڈیو پروگرام اسی مرکزی براڈکاسٹنگ اسٹیشن سے نشر کئے جاتے ہیں جبکہ DW ٹیلی ویژن کی نشریات جرمن صدر مقام برلن سے پیش کی جاتی ہیں۔

چودہ اگست 1964سے لے کر ستمبر 2003 ء تک وائس آف جرمنی کی اردو نشریات روزانہ صرف ایک مرتبہ پیش کی جاتی تھیں۔ امریکہ پر 11ستمبر2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ ہی جب عالمی حالات وواقعات نے اچانک ایک نیا رخ اختیار کرلیا اور ایک عالمی نشریاتی ادارے کے طور پر ڈوئچے ویلے نے بھی خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں نئی صورت حال کے پیش نظر چند نئے ریڈیو پروگرام نشر کرنے یا پہلے سے موجود پروگراموں کے دورانیے میں اضافے کا فیصلہ کیا تو ساتھ ہی اردو کی 30 منٹ دورا نیے کی ایک اضافی مجلس بھی شروع کر دی گئی۔ یوں جرمنی سے اردو میں ریڈیو نشریات کا مجموعی دورانیہ پون گھنٹے سے بڑھ کر سوا گھنٹہ ہو گیا اور پھر بعد میں یہ دورانیہ مزید بڑھا کر ڈیڑھ گھنٹہ تک کر دیا گیا۔

ڈوئچے ویلے شعبہء اردو کے دو سینئر ارکان امجد علی اور مقبول ملک

دنیا بھر میں اردو زبان بولنے والے سامعین کے لئے یورپ کے عین وسط سے روزانہ پیش کئے جانے والی ہماری اردو کی تینوں مجالس کے پروگرام نہ صرف شارٹ ویو اور میڈیم ویو پر بھی سنے جا سکتے ہیں بلکہ یہی نشریات انٹرنیٹ اور مختلف براعظموں میں کئی سیٹیلائٹس کے ذریعے بھی ہمارے بے شمار سامعین تک پہنچ رہی ہیں۔ بحیثیت مجموعی ڈوئچے ویلے کی اردو سروس اپنے سامعین، خاص طور پرجنوبی ایشیا کے عوام میں اس لئے انتہائی مقبول ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی DW کی حکمت عملی حقائق کو ان کی اصل حالت میں پیش کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمن معاشرے، زبان وثقافت اور متحد ہوتے ہوئے یورپ میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی بیرون ملک متعارف کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ڈوئچے ویلے کی اردو نشریات کی کامیابی اور سامعین کی طرف سے ان کو پسند کئے جانے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمیں گذشتہ برس مختلف ملکوں سے اپنے سامعین کے کل 110985 کے قریب خطوط اور ای میلز، وائس میلز اور SMS پیغامات موصول ہوئے، جن میں سے تقریباً دو تہائی فیڈ بیک پاکستانی سامعین کی تھی۔ ہم اپنی اردو نشریات میں روزانہ جرمنی، یورپ، پاکستان، جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں پیش آنے والے اہم حالات وواقعات کے بارے میں رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے سامعین ہماری نشریات میں شامل تجزیوں، تبصروں اور ہمارے ہفتہ وار میگزین پروگراموں کو بھی بہت پسند کرتے ہیں۔

پاکستان میں ڈوئچے ویلے کے پروگرام ہمارے کئی پارٹنر اسٹیشنوں، مثلاً اسلام آباد میں قائم نشریاتی اداروں FM100 اورPower 99، کراچی میں اپنا کراچی FM107 اور پشاور میں قائم کیمپس ریڈیوکے علاوہ سن رائز ریڈیو سمیت متعدد نشریاتی اداروں سے بھی مقامی سامعین کے لئے دوبارہ نشر کئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے پشتو اور دری زبانوں میں ڈوئچے ویلے کی خبروں کی ری ٹرانسمیشن بھی کی جاتی ہے اور DW ٹیلی ویژن کے انگریزی میں تیار کردہ کئی پروگرام بھی روزانہ بنیادوں پر PTV کے مقامی اور غیر ملکی ناظرین کے لئے نشر کئے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ DW ٹی وی کی نشریات کراچی اور لاہور میں Sun TV کے ذریعے روزانہ چھ گھنٹے کے لئے دکھائی جاتی ہیں جبکہ Info Highway نامی کیبل کمپنی کے ذریعے یہی نشریات کراچی اور لاہور میں 24 گھنٹے دیکھی جاتی ہیں۔

ڈوئچے ویلے کی اردو، ہندی اور بنگلہ زبانوں پر مشتمل جنوبی ایشیائی سروسزکے مشترکہ سربراہ کی ذمے داریاں گراہم لوکاس انجام دے رہے ہیں اور DW کی ایشیائی زبانوں میں نشر کی جانے والی تمام سروسز کی سربراہ سیبلّے گولٹے شروئڈر ہیں۔ جرمنی کے اس عالمی نشریاتی ادارے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ایرک بیٹر مان ہیں جو نومبر2001 سے ڈوئچے ویلے کے سربراہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تحریر : سائرہ حسن شیخ

اس کیٹیگری سے مزید