1. فہرست مضامین
  2. نیوی گیشن
  3. مزید مضامین
  4. میٹا نیوی گیشن
  5. تلاش
  6. تیس زبانوں میں سے انتخاب کریں


 

کھیل  | 08.07.2009

ٹور ڈی فرانس: اہم ترین سائیکل ریس

 

سائٍکلنگ بھی خاصا دلچسپی کا حامل سپورٹس ڈسپلن تصور کیا جاتا ہے۔ ہر ملک میں اِس کے مقابلے شیڈیول کئے جاتے ہیں۔ وہ سبھی اپنی اپنی جگہ اہم ہیں مگر عالمی سطح پر ٹور ڈی فرانس کی حثیت مسلمہ ہے۔

 

سائیکلنگ کی دنیا میں سب سے بڑے ایونٹ ٹور ڈی فرانس کی شروعات ہفتہ چار جولائی سے یورپ کی چھوٹی سی ریاست مناکو سے شروع ہو گئی ہے۔ اب تک اِس کی چار منزلیں مکمل ہو چکی ہیں۔ ایک سو اسی سائیکل سوار شریک ہیں۔

  ٹور ڈی فرانس سائیکلنگ کی دنیا کی غیر سرکاری عالمی چیمپئن شپ بھی تصور کی جاتی ہے۔ یہ ریس شرکاء کی جراٴت، ہمت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔ جیتنے والوں کو بے بہا انعامات اور بین الاقوامی پذیرائی سے نوازا جاتا ہے۔سال رواں کی ریس  کا نقشہ اور مختلف منرلوں کے مقاماتBildunterschrift: سال رواں کی ریس کا نقشہ اور مختلف منرلوں کے مقامات

مناکو یوں تو فارمولا ون کے حوالے سے مشہور ہے مگر ٹور ڈی فرانس کی پہلی سٹیج کی تکمیل کے سلسلے میں شرکاء نے ساڑھے پندرہ کلومیٹر کا پہاڑی فاصلہ طے کیا۔ کُل اکیس مختلف منزلوں کے بعد چھبیس جولائی کو یہ ریس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اختتام پذیر ہو گی۔

اِس بار کی ٹور ڈی فرانس میں دلچسپی کے حامل کئی پہلُو ہیں۔ اِس بار بیماری سے نجات پانے کے بعد ٹور ڈی فرانس کے سابقہ فاتح امریکی سائیکل سوار لانس آرمسٹرانگ کی دوبارہ واپسی اور شمولیت ہے۔ آرمسٹرانگ نے ٹور ڈی فرانس جیسی طویل اور مُشکل سائیکل ریس میں سات بار کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ اُنہوں نے اپنے بدن کے اندر کینسر کو شکست دینے کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان واپس لیتے ہوئے اپنی من پسند سائیکل ریس میں دوبارہ شرکت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین دیکھنا چاہتے ہیں کہ سینتیس سالہ آرمسٹرانگ کی ٹانگیں اب کتنی مضبوط ہیں۔ دوسری طرف ریس کے منتظمین نے سابقہ چیمپئن کو متنبہ کیا ہے کہ دورانِ ریس وہ ڈوپ ٹیسٹس کے لئے تیار رہیں۔امریکی سائیکل سوار لانس آرمسٹرانگ زرد جرسی میں: فائل فوٹوBildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  امریکی سائیکل سوار لانس آرمسٹرانگ زرد جرسی میں: فائل فوٹو

آرمسٹرانگ کے علاوہ مارک کیونڈش بھی ایک سٹار ہیں، جو ٹور ڈی فرانس میں شریک ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے چار مختلف سٹیجوں میں فتحمندی حاصل کی تھی۔ وہ بھی اِس بار کی ریس میں ایک نئے جذبے کے ساتھ شریک ہیں اور اُن کی کوشش ہو گی کہ وہ اِس کے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر سکیں۔

ٹور ڈی فرانس میں ایک سو اسی سائیکل سواروں کو بیس مختلف ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے، جیسے مثلاً امریکی سائیکل سوار لانس آرمسٹرانگ کا تعلُق آستانہ ٹیم سے ہے۔ اِس ٹیم کے سپانسر وسطی ایشیائی ریاست کزاقستان کے دارالحکومت کے کاروباری لوگ ہیں۔

ٹور ڈی فرانس میں سائیکل سواروں کو تین ہفتوں کے دوران کُل دو ہزار ایک سو پچھتر میل یا ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا ہو گا۔ اِس میں میدانی علاقوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے ساتھ نرم اور ریتلے حصے بھی ہیں۔ امکاناً شریک سائیکل سواروں کو جیتنے کے لئے چالیس کلو میٹر فی گھنٹہ یا پچیس میل فی گھنٹہ کے حساب سےسائیکلنگ کرنا ہوتی ہے۔ کچھ مقامات پر کچھ سائیکل سوار اِس سطح سے بھی آگے چلے جاتے ہیں اور یوں اپنی خصوصی ہمت اور مہارت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

ٹور ڈی فرانس کے دوران چیمپئن ڈرائیور کو زرد جرسی پہنائی جاتی ہے تاکہ وہ سب میں ممتاز دکھائی دے۔ تمام ایک سو اسی سائیکل سواروں کے من کی مراد بھی یہی اہم زرد جرسی ہو تی ہے۔ اِس کے علاوہ کچھ اور رنگ کی جرسیاں بھی ہوتی ہیں، جو مختلف منازل پر جیتنے والوں کی دی جاتی ہیں۔

گزشتہ سالوں میں ٹور ڈی فرانس میں شریک سواروں کے حوالے سے ڈوپ ٹیسٹس کے بعد کئی تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اِس پر عالمی سطح پر تاسُف کا بھی اظہار کیا گیا اور اِس بات پر زور دیا گیا کہ کھلاڑیوں کو کم از کم بتائی گئی ممنوعہ ادوویات کا ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے سے جہاں کھلاڑی کی جگ ہنسائی ہوتی ہے، وہاں منتظمین کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔ اِس بار بھی ریس کے دوران منتظمین ڈوپ ٹیسٹ کے حوالے سے سرگرم رہیں گے۔

 

رپورٹ:عابد حسین ، ادارت : امجد علی

 

فیڈ بیک »بھیجیں »پرنٹ کریں »

Weitere Schlagzeilen

 
آرٹیکل بُک مارک کریں