1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

آپ کی بات آپ کے ساتھ

کچھ مزید خط

ڈوئچے ویلے کے سامعین کی طرف سے بھیجے گئے خط ہمارے لئے نہ صرف اعزاز کا باعث ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ رائے ہمیں اپنے پروگراموں میں بہتری لانے کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ، اس لئے ہمیں لکھتے رہئے، سامعین کے کچھ مزید خط

  • ظفر علی سوات پاکستان، آپ کا ارسال کردہ خط ملا ،خط ملنے سے مجھے خوشی ہوئی بلکہ رابطہ اور مضبوط ہو جائے گا۔ ڈوئچے ویلے کی نشریات نہ صرف میں خود، بلکہ دوسرے دوستوں کو بھی سننے کی دعوت دیتا ہوں۔ پروگرام اپنی اپنی جگہ سب اچھے ہیں اور مجھے پسندبھی ہیں ۔
  • عمران حسن قریشی، قریشی ورلڈ لسنرز کلب بہاولپورپاکستان، میری ساس صاحبہ ایک عرصہ بیمار رہنے کے بعد اپنے خالق حیققی سے جا ملی ہیں آپ اور تمام سننے والے ان کے لئے دعائے مغفرت کریں۔
  • چنیوٹ پاکستان، بلال خان ،نسیم خان، نعیم خان ہم روزانہ بڑی باقاعدگی سے ڈوئچے ویلے کی اردو نشریات سنتے ہیں ۔ ڈوئچے ویلے سے ہمیں دنیا جہان کے بارے میں تازہ ترین خبریں اور ڈھیروں معلومات ملتی ہیں۔ ہم روزانہ اپنی چھوٹی سی بیھٹک میں جمع ہوتے ہیں اور پھر اپنے چھوٹے ریڈیو پر آپ کی نشریات سماعت کرتے ہیں۔ ہمیں آپ کے تمام سلسلے بے حد پسند ہیں خاص کر مشرق ومغرب، تحقیق کی نئی راہیں ، شانہ بشانہ اور آپ کی محفل ہمارے پسندیدہ پروگرام ہیں۔
  • دیپال پورپاکستان، آپ کے خلوص اورمحبت کا دیوانہ مستری اللہ دتہ، ڈوئچے ویلے کے پروگرام ہمارے لئے بڑے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور میں بہت غور، شوق و لگن سے سنتا ہوں۔ آپ کے سارے پروگرام قابل تعریف ہوتے ہیں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ مجھے ایک بار نہیں کئی بار نظر انداز کیا جاتا ہے۔میرے خط کا جواب نہیں دیتے۔ مجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دیوانوں کا یہی حال ہوتا ہے جو آپ ہمارا کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، بڑی مشکل سے پروگرام سنتا ہوں، عاطف کو تاکید کریں کہ سنجیدہ ہوکرپروگرام نہ کیا کریں ۔۔
  • نیازی لسنرزکلب محمد حفیظ اللہ نیازی، دلنوا، حسن جمال، حفیظ خان، سعدیہ ناہید، ڈوئچے ویلے کی اردو سروس بڑے شوق اور چاہت سے سنتے ہیں۔ کلب کے اراکین نے مل کر آم کا ننھا سا پودا لگایا ہے جو کہ ڈی ڈبلیو کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ جیسے ہی اس درخت پر آم لگیں گے تو سب سے پہلے آم ڈوئچے ویلے کے سٹاف کو بھیجیں گے، انتظار کریں۔ ہیلتھ انشورنش کمپناں اور بزرگ شہریوں کو ملنے والی پینشن پر بہت ہی زبردست رپورٹ پیش کی، اتنا اچھا اور معلوماتی پروگرام تیار کرنے پر مقبول ملک کو مبارکباد پہنچا دیں۔ پروگرام گائیڈ پر ندیم گل اور افسر اعوان کی تصویریں نہیں تھیں اور آپ نے اردو سروس کو دوہزار آٹھ میں ملنے والے خطوط کی کل تعداد بھی نہیں بتائی۔
  • بنوں پاکستان، عرفان خان، ڈوئچے ویلے اردو سروس کو پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں آپ کے پیش کردہ پروگرام اچھے ہوتے ہیں

    سائرہ حسن ، آپ کے خطوں کے ساتھ

    اسی لئے بہت شوق سے سنتا ہوں میں آپ لوگوں سے بہت متاثر ہوں۔ آپ کو خط لکھنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ امید ہے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے اور میرے خط کا جواب ضرور دیں گے۔

  • اعظم گڑھ بھارت، محمد اسلم، میں ڈوئچے ویلے تقریبا1992سے سن رہا ہوں اور ہر وقت آپ کا خیال بھی رہتا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ میرے نام سے بھی واقف ہیں یا نہیں کیونکہ آپ نے نہ ہی مجھے فون کیا اور نہ کبھی خط لکھا۔ ڈوئچے ویلے کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔ میں آپ کو آپ کی ویب سائٹ کے بارے میں مشورے بھی دیتا رہوں گا ایک پرابلم ہے کہ ونڈوز 98 میں پیج اوپن نہیں ہوتا۔
  • بھارت بھوجپور، قمرسبحانہ قریشی۔ آپ کی محفل میں آداب۔ امریکہ کی انتخابی مہم پر آپ کی رپورٹ بہت معلوماتی تھی۔ خدا تعالی سے میری دعا ہے کہ امریکہ میں صدر کوئی بھی بنے گلشن دہر میں امن و اماں قائم رہے۔
  • اعظمی لسنرز کلب، مس انا زینب اعظمی، اعظم گڑھ بھارت، اردو سروس کے اراکین اور تمام سامعین کو سلام اورنیک تمنائیں۔
  • ولید پور ماﺅ بھارت، سراج احمد فاروقی ، فاروقی ریڈیو لسنرز کلب، ڈوئچے ویلے کے تمام سٹاف اور تمام سننے والوں کو سلام اورنیک تمنائیں۔
  • محمود احمد عنایت اﷲ، دوحہ قطر، طویل عرصے بعد آج آپ کی خدمت میں خط تحریر کر رہا ہوں ویسے تو میں آپ کا بہت پرانا سامع ہوں پچھلے دنوں آپ کی طرف سے ایک سوالیہ فارم ملا جو ڈوئچے ویلے کی سامعین سے محبت اور چاہت کا ناقابل فراموش ثبوت ہے میں تمام کرم فرماﺅں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور میری نیک تمنائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔
  • الہند ریڈیو لسنرز کلب پھپھوند بھارت ، رضوان السجاد، نشریات بے حد صاف اور واضح ہیں۔ خبروں اورتبصروں کا معیار بلند اور غیر جانب دار ہے جو کہ ڈی ڈبلیو کا خاصا ہے ۔ حالات حاضرہ میں خصوصاً برصغیر کے حالات و اقعات سے بھر پور آگاہی ہوتی ہے۔ ہفتہ وار فیچرز لاجواب اور یہ معلومات کا ایک گراں قدر خزانہ ہوتے ہیں۔ آپ ہر خبر سے پہلے متعلقہ شہر کا نام بھی بتاتے ہیں جو کہ بہتر اور ایک مختلف انداز ہے مگر کبھی سامعین اس شہر کے ملک سے واقف نہیں ہوتے اس خبر کا مزا ادھورا رہ جاتا ہے پوری دنیا کے ممالک کے شہروں سے پہچان ناممکن ہے۔

اس کیٹیگری سے مزید